میں نے بھی کچھ سوچ کر ہی تم کو ہے قاتل لکھا


میں نے بھی کچھ سوچ کر ہی تم کو ہے قاتل لکھا
ڈوبنے والے کے ہاتھوں پر بھی تھا ساحل لکھا
میری گم راہی نہیں ہے بے سبب اے دوستو
راستوں میں ہر جگہ مجھ کو ملا منزل لکھا
بھیک دینے والا بدلے میں دعُائیں مانگ کر
میری صف میں آگیا تھا اُس کو بھی سائل لکھا
مرد کو کچھ درد نہ ہے سب بنی باتیں ہیں یہ
ڈر سے دُنیا کے نہ روئے جو، اُسے بزدل لکھا
شاعری بازار ہے میں رقص میں ہوں دیکھ کر
چھن چھنا چھن دھڑکنیں اور اپنا دل پائل لکھا
میں کہ تھا”کاشف“ کبھی پر دل کے کاروبار میں
اصل تھا وہ لگ گیا ہے ارفع کو حاصل لکھا

(By Rana Kashif Saleem Arfa)
This entry was posted in Poetry. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s