دل میں شور ہوتا ہے

دل میں شور ہوتا ہے
تم سے بات کرنی ہے
کچھ پرانے قصّے ہیں
اک نئی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے
زندگی کی راہوں میں
راستے بدلتے ہیں راستے نکلتے ہیں
دو الگ الگ راہیں دو الگ الگ راہی
آج مل کے بیٹھے ہیں
آ ج فیصلہ ہو گا کس ڈگر پہ چلنا ہے
دل میں شور ہوتا ہے ”بات بن بھی سکتی ہے“
دل میں شور ہونے دو بات یہ نہیں کرنی
بات یہ تو باتوں میں یوں ہی آ گئی لیکن
بات ہو بھی سکتی ہے
ایک مسئلہ ہے جو تم سے حل کرانا ہے
وقت کی لڑائی ہے
ایک کل جو گزرا ہے ایک کل جو آنا ہے
گزرا کل حقیقت ہے آنے والا سپنا ہے
دونوں کل میں جھگڑا ہے
فیصلہ یہ کرنا ہے ان میں کون اپنا ہے
دل میں شور ہوتا ہے
”تم بہت پریشاں ہو تم سے یہ نہیں ہو گا“
دل میں شور ہونے دو
آج جو بھی کرنا ہے مجھ کو خود ہی کرنا ہے
اپنے درمیاں ہوئیں چھوٹی چھوٹی باتوں سے
حل نکالا ہے کہ تم گھر سے جب نکلتے ہو
کچھ پُرانے وعدوں کو ساتھ لے کے چلتے ہو
بات قاعدے کی ہے
بااُصول لوگوں کو میں سلام کرتا ہوں
ایک کام کرتا ہوں چُپ ہی سادھے رکھتا ہوں
چُپ ہوں میں مگر سُنو ”دل میں شور ہوتا ہے“

دل میں شور ہونے دو

(By Rana Kashif Saleem Arfa)
This entry was posted in Poetry. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s