اپنی آنکھیں زندہ رکھنا

اپنی آنکھیں زندہ رکھنا

ہنستی کھیلتی چاندسے پیاری سپنے بننے والی لڑکی
سپنے سچ ہوں یا نہ ہوں پر اپنی آنکھیں زندہ رکھنا
دھنک رنگوں کی خبریں لانا
مست رُتوں کے سپنے بُننا
مہکی ہوائیں چھیڑتی رہنا
دھیمے دھیمے بولتی رہنا
کانوں میں رس گھولتی رہنا
کُہرے میں لپٹی راتوں میں
اپنے بدن کی گرمی سے
جگمگ جگنو سے سپنوں کو
دھیرے دھیرے سینچتی رہنا
کالے بادل چیر کے چھم سے
سامنے آ کر ہنستی رہنا
انجانے میں چپکے چپکے
پلٹ پلٹ کر دیکھتی رہنا
خوشبو، بادل، پھول، پون،
رنگ دھنک سُر تان سے مل کر
ساون کے سنگیت سنانا پائلیاچھنکاتی رہنا
ہاتھ میں چوڑی پہنے رکھنا
لیکن سپنے بننے والی
ہنستی کھیلتی چاند سے پیاری نٹ کھٹ چنچل نازک لڑکی
آنکھوں میں باتیں کرتے اس کجرے کو یہ راز نہ دینا
دل کی گہرایئوں سے اُٹھتی چاہت کو آواز نہ دینا
ان چھوئی کلیوں کی دیوی بھنوروں کے دھوکے میں نہ آنا
نکھری نکھری باتیں سننا
اُجلی اُجلی باتیں کرنا
سپنے سچ ہوں یا نہ ہوں پر
اپنی آنکھیں زندہ رکھنا
ہنستی کھیلتی چاند سے پیاری سپنے بننے والی لڑکی

(By Rana Kashif Saleem Arfa)

This entry was posted in Poetry. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s