تمہيں جب کبهۍ مليںفرصتيں٬مرے دل سے بوجە اتار دو

تمہيں جب کبهۍ مليںفرصتيں٬مرے دل سے بوجە اتار دو
ميں بہت دنوں سے اداس ہوں٬ مجھے کوئى شام ادھار دو
مجھےاپنےروپ کى دھوپ دوکہ چمک سکيںمرےخال وخد
مجھےاپنے رنگ ميں رنگ دو٬ مرے سارے زنگ اتار دو
کسى اورکو مرےحال سے نہ غرض ہے نہ کوئى واسطہ
ميں بکھر گيا ہوں سميٹ لو٬ ميں بگڑ گيا ہوں سنوار دو
مرى وحشتوں کو بڑھا ديا ہے جدائيوں کےعذاب نے
مرے دل پہ ہاتە رکھو ذرا٬مرى دھڑکنوں کو قرار دو
تمہيں صبح کيسى لگى کہو٬مرى خواہشوں کے ديار کى
جو بھلى لگى تو يہيں رہو٬ اسے چاہتوں سے نکھار دو
وہاں گھر ميں کون ہے منتظر٬ کہ ہو فکر دير سويرکى
بڑى مختصر سى يہ رات ہے اسے چاندنى ميں گزار دو
کوئى بات کرنى ہے چاند سے کسى شاخسارکى اوٹ ميں
مجھے راستے ميں يہيں کہيں کسى کنج گُل ميں اُتار دو

This entry was posted in Poetry. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s